|
آلات |
باب:طرزیاتطرزیات یا Technology، سائنس اور معلومات کے فنی اور عملی استعمال کو کہا جاتا ہے اور اس شعبہ علم کے دائرہ کار میں وہ تمام آلات بھی آجاتے ہیں اور وہ تمام دستورالعمل یا طریقۂ کار بھی کہ جو علمی معلومات کے عملی استعمال سے متعلق ہوتے ہیں۔ طرزیات یا ٹیکنالوجی کی اصطلاح عام طور پر طرازوں (techniques) کے ایک مجموعے کیلیۓ استعمال ہوتی ہے (مثال کے طور پر space technology)، اور بعض اوقات اسکو ہندسیات (engineering) کی طراز یا ٹیکنیک استعمال کرتے ہوۓ بنائی جانے والی کسی چیز (پیداوار یا پروڈکٹ) کے لیۓ بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ کوئی طرزیاتی کاروباری ادارہ اپنی بنائی ہوئی پیداوار کو ایک ٹیکنالوجی کہ سکتا ہے، مثلا Hitachi technology اور ABI technology وغیرہ وغیرہ۔ طرزیات ایک بہت وسیع اصطلاح ہے اور نوع انسان کا اس سے تعلق اس وقت سے ہی جاری ہے کہ جب سے اس نے قدرتی اسباب اور وسیلوں کو سادہ اوزاروں میں بدلنا سیکھا۔ زمانہ قبل از تاریخ کے ادوار میں حضرت انسان کا آگ لگانے کے طریقے کا دریافت کرنا اور کسی وزنی چیز کے نیچے کوئی گول چیز رکھ کر اسے دھکیلنا (جس سے پہیے کی ایجاد ہوئی) سب کچھ طرزیات ہی کی ابتدائی اشکال ہیں۔ اور موجودہ دور میں آئیں تو بہت سی ایسی ایجادات و طراز ہیں جنہوں نے اس دنیا کو ایک نئی شکل میں ڈھال دیا ہے، ان میں www اور اسکی بنیاد یعنی شمارندہ (computer) وغیرہ اھم ہیں۔ ایک اور پہلو یہ کہ تمام تر طرزیات نے انسانی بھلائی کی جانب ہی رخ نہیں کیا بلکہ کثیر تعداد میں ایسی طرزیات بھی تخلیق کی جاچکی ہے اور کی جارہی ہے کہ جو انسانیت ہی کو مٹا دینے کی بھر پور صلاحیت سے مالا مال ہے اور انکی چند مثالوں میں Atom bomb اور Neutron bomb جیسے مہیب ہتھیار شامل ہیں۔
مرکزی اسلحہ (nuclear weapon) جسکو عام طور پر جوہری اسلحہ یا جوہری ہتھیار بھی کہا جاتا ہے ، ایک ایسا اسلحہ ہے کہ جو اپنی تباہ کاری کی صلاحیت یا طاقت ، انشقاق (fission) یا اتحاد (fusion) جیسے مرکزی تعاملات (نیوکلیئر ری ایکشنز) سے حاصل کرتا ہے۔ اور انشقاق اور ائتلاف (اتحاد) جیسے مرکزی طبیعیاتی عوامل سے توانائی اخذ کرنے کی وجہ سے ہی ایک چھوٹے سے مرکزی اسلحہ کا محصول (یعنی اس سے نکلنے والی توانائی یا yield) ، ایک بہت بڑے روائتی قـنبلہ (bomb) کے مقابلے میں واضع طور پر زیادہ ہوتی ہے، اور ایسا صرف ایک قنبلہ یا بم ہی تمام کا تمام شہر غارت کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ پوری انسانی تاریخ المحارب اور اشرف المخلوقات کی خون آشامی و درندگی کے تمام تر نوشتہ جات میں مرکزی اسلحہ صرف اور صرف دو بار ہی استعمال ہوا ہے (کم از کم کھلی شہادت کے ساتھ دو بار ہی کہ سکتے ہیں) ، جب جنگ عظیم دوم میں امریکہ کی جانب سے جاپان کے دو شہروں پر مرکزی قنبلہ (ایٹم بم) گرایا گیا۔ پہلا یورنیم پرمنحصر قنبلہ 6 اگست 1945 کو جاپانی شہر ہیروشیما پر گرایا گیا اور اسکا خوبصورت نام لٹل بواۓ تجویز کیا گیا، جبکہ دوسرا اسکے تین روز بعد دوسرے جاپانی شہر ناگاساکی پر نازل ہوا جسکا نام فیٹ مین تھا اور یہ پلوٹونیم پر منحصر قنبلہ تھا۔
جو نا ملے اسے پوچھیۓ:
|
|||||||